حسرت
وہ آدمی جو نرالا ہے منچلا ہے بہتدراز اس کی تباہی کا سلسلہ ہے بہتبھٹک رہا ہے سمٹتے جہاں کی وسعت میںنشیبِ زیست سے اٹھ اٹھ کے گرا ہے بہتیہ اعتراف ہے احساس کی شکست نہیںمرے وجود کو میرا ہی سامنا ہے بہتجھلستی دھوپ کی شدت کا کچھ اثر نہ ہواگھنیری چھانؤ کی ٹھنڈک میں دل جلا ہے بہتکسی کو راس نہ آئی ہے زندگی لیکنہر ایک آنکھ میں جینے کا حوصلہ ہے بہت