Elementor #143

حسرت

وہ آدمی جو نرالا ہے منچلا ہے بہتدراز اس کی تباہی کا سلسلہ ہے بہتبھٹک رہا ہے سمٹتے جہاں کی وسعت میںنشیبِ زیست سے اٹھ اٹھ کے گرا ہے بہتیہ اعتراف ہے احساس کی شکست نہیںمرے وجود کو میرا ہی سامنا ہے بہتجھلستی دھوپ کی شدت کا کچھ اثر نہ ہواگھنیری چھانؤ کی ٹھنڈک میں دل جلا ہے بہتکسی کو راس نہ آئی ہے زندگی لیکنہر ایک آنکھ میں جینے کا حوصلہ ہے بہت